ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / حسن نواز تیسری مرتبہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش

حسن نواز تیسری مرتبہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش

Mon, 03 Jul 2017 16:48:51    S.O. News Service

 

اسلام آباد ،3جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)وزیرِاعظم نواز شریف کے بیٹے حسن نواز پیر کی صبح پاناما لیکس کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی چھ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی)کے سامنے پیش ہو گئے ہیں۔اس سے قبل بھی حسن نواز دو مرتبہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔جے آئی ٹی نے وزیراعظم کے بڑے بیٹے حسین نواز کو چار جولائی کو طلب کر رکھا ہے۔ حسین نواز بھی اس سے قبل پانچ مرتبہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔

سپریم کورٹ کے حکم پر قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کو بھی پانچ جولائی کو طلب کرلیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جے آئی ٹی نے وزیراعظم کی صاحبزادی کو طلب کیا ہے۔پیر کو حسن نواز کی پیش کے موقع پر فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کیباہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کے معاونِ خصوصی آصف کرمانی نے کہا کہ جب تک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ نہیں کرتی اُس وقت تک اُن کے بقول تفتیش کا عمل مکمل نہیں ہو گا۔
وزیراعظم نواز شریف کے خاندان کے زیر استعمال لندن کے ایک مہنگے علاقے 'مے فیئر' میں موجود فلیٹس کے بارے میں وزیراعظم کے بیٹوں کا موقف ہے کہ ان فلیٹس کی خریداری کے لیے رقم پاکستان سے منتقل نہیں ہوئی اور اپنے اس موقف کے ثبوت میں انھوں نے قطر کے کے سابق وزیراعظم و وزیر خارجہ شہزادہ حمد بن جاسم بن جبر الثانی کا ایک تحریری بیان سپریم کورٹ میں پیش کیا تھا۔مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے حمد بن جاسم بن جبر الثانی کو بھی بیان ریکارڈ کرانے کے لیے بلایا تھا، لیکن اُنھوں نے پاکستان آنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جے آئی ٹی قطر میں اُن کا بیان ریکارڈ کر سکتی ہے۔صحافیوں سے گفتگو میں آصف کرمانی کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کے پاس وسائل بھی ہیں اور اُسے قطر جانا چاہیے۔سپریم کورٹ نے 20اپریل کو پاناما پیپرز کے معاملے پر فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے غیر ملکی اثاثوں کی مزید تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔وزیراعظم نواز شریف بھی 15جون کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو چکے ہیں، جن سے کمیٹی نے لگ بھگ تین گھنٹے تک سوال جواب کیے تھے۔


Share: